بین الحکومتی معاونت

فوٹو: یو این فوٹو/ جاؤ اراجو پنٹو

اقوامِ متحدہ کے بین الحکومتی فورمز میں رکن ریاستیں مل بیٹھ کر صنفی برابری کی عالمی اقدار اور معیارات پر بحث کرتی ہیں اور ان پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ان معاہدوں اور وعدوں کی صورت میں حکومتوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کو عالمی، علاقائ اور قومی سطحوں پر صنفی برابری اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے ایک بنیاد مل جاتی ہے۔ ان کی بدولت ایسے قوانین، پالیسیوں اور پروگراموں کی منظوری اور ان میں مزید بہتری کی راہ ہموار ہوتی ہے جن سے خواتین اور مردوں کے درمیان برابری پیدا ہوتی ہے۔

صنفی برابری اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے کام کرنے والا مرکزی بین الحکومتی فورم خواتین کی حیثیت پر اقوامِ متحدہ کا کمیشن   ہے۔ متعلقہ امور و مسائل پر نہ صرف اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی ،  سلامتی کونسل ،  اور اقتصادی و سماجی کونسل (ECOSOC)  میں بحث کی جاتی ہے بلکہ بڑی بین الاقوامی کانفرنسوں میں بھی یہ امور زیرِبحث آتے ہیں۔

یو این ویمن اپنے مینڈیٹ کے تحت رکن ریاستوں کو اقدار کے تعین میں مدد دیتا ہے۔ بین الحکومتی مباحثوں اور فیصلوں میں رہنمائی کے لئے تحقیقی سرگرمیوں، شواہد کی تیاری و فراہمی کے ساتھ ساتھ عمدہ طریقوں اور ماضی کے تجربات کی معلومات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ یو این ویمن اپنے ملکی پروگراموں کے ذریعے ان اقدار اور معیارات کو عملی جامہ پہنانے میں بھی معاونت فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، یو این ویمن صنفی برابری اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے اقوامِ متحدہ کے نظام کے تحت کی جانے والی سرگرمیوں کی قیادت اور کوآرڈینیشن کے فرائض انجام دیتا ہے۔

یو این ویمن کی ملکی سرگرمیوں پر بین الحکومتی مباحثے ایگزیکٹو بورڈ  میں کئے جاتے ہیں جہاں اقوامِ متحدہ کی رکن ریاستوں کا باری باری کی بنیاد پر بنایا گیا گروپ کلیدی سمت کا تعین کرنے میں مدد دیتا ہے۔

news
Latest news