صنفی برابری کے شعبے میں پاکستان کی بین الاقوامی ذمہ داریاں

Sustainable Development Goal 5
Sustainable Development Goal 5

یو این ویمن، حکومتِ پاکستان کے ساتھ مل کر صنفی برابری اور خواتین کی خودمختاری کے شعبوں میں پاکستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں اور معاہدوں بشمول خواتین کے خلاف ہر طرح کے امتیاز کے خاتمہ کے کنونشن (سی ای ڈی اے ڈبلیو)، مدت وار یونیورسل جائزہ (یو پی آر)، پائیدار ترقی کے عالمی مقاصد اور بیجنگ پلیٹ فارم فار ایکشن (بی پی ایف اے) سے متعلق سرگرمیوں کی نگرانی، ان پر عملدرآمد، رپورٹنگ اور پاسداری کو مستحکم بنانے کے لئے سرگرم عمل ہے۔ یو این ویمن پاکستان ملک میں صوبائی سی ای ڈی اے ڈبلیو کمیٹیوں،ٹریٹی باڈی سیل، ٹریٹی امپلی منٹیشن سیل، ترقی خواتین کے محکموں اور خواتین کمیشنز سے متعلق مختلف سطحوں پر رپورٹنگ اور عملدرآمد کی سرگرمیوں میں بھی معاونت فراہم کر رہا ہے۔

یو این ویمن ایک جامع لائحہ عمل کے تحت اپنے پارٹنرز کے ساتھ مل کر بین الاقوامی وعدوں اور معاہدوں کو مقامی اور صوبائی پالیسیوں کی شکل میں ڈھالنے کے لئے کام کر رہا ہے۔ یو این ویمن صنفی برابری اور خواتین کی خودمختاری سے متعلق ملکی جائزے کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دینے کے لئے معلومات یا ڈیٹا جمع کرنے اور ان کے تجزیہ کی سرگرمیوں میں بہتری لا رہا ہے اور ڈیٹا میں کسی بھی کمی کو دور کرنے کے لئے ایک جامع فریم ورک کو مستحکم بنانے کے لئے سرگرم عمل ہے۔ اس میں صنف کے لحاظ سے الگ الگ ڈیٹا اور سول رجسٹریشن کی ہر سطح کے صنفی اعدادوشمار اور کلیدی اعدادوشمار شامل ہیں۔ اس کے علاوہ دستیاب ڈیٹا کے استعمال اور تجزیہ میں مختلف محکموں کی استعداد بہتر بنانے کے لئے بھی کام کیا جا رہا ہے۔ یو این ویمن پاکستان اور خواتین کی حیثیت پر قومی کمیشن (این سی ایس ڈبلیو) کی مشترکہ کاوش 'نیشنل جنڈر ڈیٹا پورٹل (این جی ڈی پی)' اس سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے جس کے ذریعے صنف کے لحاظ سے الگ الگ ڈیٹا اور دیگر اہم معلومات ایک جگہ فراہم کر دی گئی ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی کے باعث صنفی برابری پر مرتب ہونے والے اثرات بھی یو این ویمن کی سرگرمیوں میں دن بہ دن اہمیت حاصل کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں جو اقدامات اور قانونی اصلاحات تجویز کی گئی ہیں ان کے حق میں حمایت بڑھانے کے لئے یو این ویمن نگرانی کے فرائض انجام دینے والے اداروں مثلاً قومی کمیشن برائے انسانی حقوق، خواتین کی حیثیت پر قومی کمیشن (این سی ایس ڈبلیو) اور سِوِل سوسائٹی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

news
Latest news